اوففففففف! کرونا تو چھوٹی چیز ہے پتھروں کی بارش کا انتظار کرو کوٹ غازی کے قریبی گاؤں میں ایک غریب شخص کے 14 سال کے بیٹے کے ساتھ زیاددتی کے بعد قتل کر کے لاش کھیتوں میں پھینک دی گئی پلیز اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں تاکہ ایک محنت کش غریب کی آواز اعلٰی حکام تک پہنچ جائے تاکہ ان کو انصاف مل جائے۔۔

چونکہ یہ ویسٹرن آئیڈیا “روبن سٹیونسن” کی کتاب “My body, My Choice” سے لیا گیا ہے۔ اور یہ کتاب ایسی عورتوں کے اسقاطِ حمل کے حقوق کے لئے لکھی گئی تھی جو زیادہ تر بنا شادی کے ہی حاملہ ہو جاتی تھیں۔ اسی سے آپ اندازہ لگا لیں کہ یہ نعرہ “میرا جسم میری مرضی” ہماری سوسائٹی کےلیے کس قدر خطرناک ہے۔

یہ ‏ایک انگریز آفیسر کی تصویر ہے ـ جو ایک بنگالی عورت پر سواری کررہا ہے ـ یہ زیادہ پرانی نہیں بلکہ انیس سو تیس کی بات ہے یہ زمانہ جاہلیت کا دور نہیں بلکہ یورپ کے عروج کا دور ہے ـ یہی انگریز آج ہمیں عورتوں کے حقوق کا درس دیتے ہیں ـ اسلام نے جو حقوق عورت کو دیٸے ہیں وہ دنیا کے کسی مذہب اور سوساٸٹی نے نہیں دیٸے ـ آج کل نام نہاد سکالرز ـ لارڈ میکالے کے کاسے چاٹنے والے اور مغربی تہذیب کے پجاری میڈیا کے پروگراموں میں بیٹھ کر ـ مغربی اقدار کو ماڈل کےطور پر پیش کرتے ہیں اور اسلامی اقدار(پردہ وغیرہ) کا مذاق اڑاتے ہیں ـ یہ تصویر مغربی اقدار کا بھیانک چہرہ ہے اور نام نہاد سکالروں کے منہ پر طمانچہ ہے

سجاول شہر کے گلی کوچوں میں بھٹکتی وحشی درندوں کی بربریت کا شکار حوا کی یہ بیٹی اس معاشرے کی غیرت پر ایک تمانچہ ہے اس لاوارث مستانی لڑکی کو پہلے حالات نے پاگل کیا, پھر لڑکی سے عورت بنا دیا, پھر کئی بار جنسی درندگی کا شکار کر کے حاملہ کیا اور اب یہ بھوک سے تنگ ہوٹل کے باہر اس لیے بیٹھی ہے کہ شاید کچھ کھانے کو مل جائے, تو اس وقت بھی کئی مرد اپنی مونچھوں کو تاؤ دیکر اس کی طرف جنسی درندگی سے دیکھ رہے ہیں, آگے اس کے ساتھ کیا ہوگا کون جانے؟؟ سندھ کے وہ ٹھیکیدار کہاں ہیں جو سندھ میں حقوق اور عورت کی عزت کی بات کرتے ہیں کیا وہ اس لڑکی کو نہیں دیکھ رہے نہ ہی مغرب زدہ میرا جسم میری مرضی کا راگ آلاپنے والی امیر زادیاں کہیں حق دینے کیلئے نظر نہیں اتی