کارنرمیٹنگ خودکش حملہ،ہارون بلورسمیت 20 افراد شہید

پشاور(بولونیوز) پشاورمیں عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے امیدوار کی انتخابی مہم کے دوران خود کش حملے سے بشیر بلور مرحوم کے صاحبزادے بیرسٹر ہارون بلور سمیت 20 افراد شہید اور 60 سے زائد کارکن زخمی ہوگئے۔تفصیلات کے مطابق منگل کی شب پشاور کے علاقے یکہ توت میں اے این پی کی کارنر میٹنگ میں 300 سے زائد کارکن موجود تھے، جیسے ہی پی کے 78 سے اے این پی کے امیدوار بیرسٹر ہارون بلور آئے تو کارکنوں نے ان کا والہانہ استقبال کیا اور آتش بازی کی، اسی اثنا میں پہلے سے موجود خودکش بمبار نے ان کے قریب آکر خود کو اڑالیا۔ دھماکے کی آواز دور دور تک سنی گئی۔ جلسہ گاہ میں بھگدڑ مچ گئی، ہرطرف خون ہی خون پھیل گیا، زخمیوں کو فوری طور پر لیڈی ریڈنگ ہسپتال منتقل کیا گیا، ہارون بلور کو بھی زخمی حالت میں فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا گیا تاہم وہ جانبر نہ ہوسکے۔ایک نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق شہدا میں شعیب، اختر گل، محمد نسیم، حذیفہ، یاسین، عارف، عثمان، عابد اللہ، محمد گل، نعیم جان، آصف خان اوردیگر شامل ہیں۔ ہارون بلور کے تایا غلام بلور بھی کارکنوں کے ہمراہ ہسپتال پہنچ گئے۔ اے این پی کے کارکنان دھاڑیں مار کر روتے رہے۔ اس موقع پر بڑے رقت آمیز مناظر دیکھنے میں آئے۔ کارکن انتہائی مشتعل ہوگئے اور انہوں نے ہسپتال میں شدید توڑ پھوڑ کی، پولیس اوردیگرقانون نافذ کرنے والے اداروں نے موقع پر پہنچ کر علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔ سی پی او پشاور قاضی جمیل کے مطابق دھماکہ خود کش تھا جس میں 8 سے 10 کلو بارودی مواد استعمال کیا گیا۔ اس کے علاوہ ایک کلو بال بیرنگ بھی استعمال کیے گئے۔یاد رہے حملہ آورکے اعضا اوردیگرشواہد اکٹھے کرلئے گئے،جائے وقوعہ کو پانی سے دھودیا گیا، ہسپتال انتظامیہ کے مطابق زخمیوں میں بیشتر کی حالت تشویشناک ہے۔ شہید ہارون بلور کے چچا الیاس بلور نے کہا کہ انہیں کوئی دھمکیاں نہیں مل رہی تھیں، وہ معمول کے مطابق انتخابی مہم چلا رہے تھے۔ میت آبائی گھر منتقل کر دی گئی، ہارون بلور شہید کی نمازجنازہ آج شام پانچ بجے اداکی جائے گی، بیرسٹر ہارون بلور پشاور کے ضلع ناظم اور اے این پی کی حکومت میں وزیراطلاعات بھی رہے۔ ان پر اس سے پہلے 2016 میں بھی حملہ ہوا تھا جس میں وہ محفوظ رہے تھے۔