سندھ میں زرعی پانی کی چوکیداری کیلئے رینجرزتعینات

کراچی (بولونیوز)نگران وزیراعلیٰ سندھ فضل الرحمان نے سندھ میں زرعی پانی کی چوکیداری کیلئے رینجرزتعینات کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور پانی چوروں کے خلاف سخت کاروائی کرنے کے احکامات جاری کرتے ہوئے متعلقہ حکام ہدایت کی ہے کہ بااثر اور بڑے زمینداروں کے پانی چوری کرنے سے چھوٹے کسانوں کا استحصال ہورہا ہے انکی زمینیں بنجر ہو رہی ہیں، جتنے بھی پانی چوری کرنے کے الزام میں مقدمات درج ہوئے ہیں انکی فوراً گرفتاریاں عمل میں لائی جائیں اورسخت سزا دیں۔ انھوں نے یہ فیصلہ اورہدایات آج وزیراعلیٰ ہاؤس میں محکمہ آبپاشی سے متعلق اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے دیں۔اجلاس میں وزیرآبپاشی مشتاق شاہ،پرنسپل سیکریٹری سہیل راجپوت و سیکریٹری آبپاشی جمال شاہ نے شرکت کی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے نگران وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ پانی چوری میں ملوث جو کوئی بھی ہیں انھیں فوراً گرفتار کریں اور زمینداروں کے خلاف بلاامتیاز کاروائی کریں جب تک چھوٹے کمداروں کے خلاف مقدمات درج ہونگےمسئلہ حل نہیں ہوگا،کسانوں کو فصلوں کی کاشت و تیاری میں شدید مشکلات کا سامنا ہے لوگوں کو پانی سے محروم نہ کیا جائے، انھوں نے سیکریٹری آبپاشی سے سوال کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں پانی کو صورتحال بہتر ہے لیکن ابھی تک تیل اینڈ پر نہیں پہنچ رہا۔ جس پر سیکریٹری آبپاشی نے اجلاس کو بریفنگ میں بتایا کہ گڈو بیراج پر 81327 کیوسک پانی موجود ہے اوراگلے دو روز میں پانی کی سطح 91 ہزار کیوسک سے تجاوز کرجائے گی اور نارا کینال میں اس وقت 10 ہزار 500 کیوسک پانی موجود ہے جبکہ گنجائش 14 ہزار کیوسک ہے لیکن با اثر اور بڑے زمیندار پانی چوری کرلیتے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ پانی چوری کے خلاف پولیس نے 50 مقدمات رجسٹر کئے ہیں جس پر وزیراعلیٰ سندھ نے انھیں ہدایت کرتے ہوئے کہاکہ سندھ میں پانی کی صورتحال بہتر ہے پھر کیا وجہ ہے کہ تیل اینڈ تک پانی نہیں پہنچ رہا، جس کسی کے خلاف بھی مقدمات درج ہیں انھیں گرفتار کریں۔نگران وزیراعلیٰ سندھ نےصوبے میں پانی چوری کرنے کیلئے رینجرز تعینات کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے سیکریٹری آبپاشی کو ہدایت کی کہ اسپٹس اینڈنٹی فائی کریں۔