کشن گنگا ڈیم،بھارتی حکومت کی کھلی دہشتگردی کا منہ بولتا ثبوت

سجاول(بولونیوز)برنی انٹرنیشنل ٹرسٹ سربراہ و سابقہ وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق ایڈووکیٹ انصار برنی نے کھاکہ بھارتی حکومت کی جانب سے متنازعہ علاقے میں پاکستان کے حصے کے پانی پر کشن گنگا ڈیم بنانا ایک کھلی دہشتگردی کا منہ بولتا ثبوت ہے اور چند دن قبل عالمی دہشتگرد مودی نے کشن گنگا ڈیم کا باقاعدہ افتتاح کرکے جنگ کا طبل بجا دیا ہے  پانی کے بحران سے دوچار پاکستانی قوم ایک نئے عذاب سے دوچار ہونے جا رہی ہے مگر زندہ اور پائندہ قوم اور ان کے لیڈران میں کسی کو پرواہ ہی نہیں ہے اور سیاسی قیادت روز ایک نیا تماشا لگاکے میڈیا و عوام کو الجھا کہ دن گزار دیتے ہیں اور غیر سنجیدگی خوفناک سطحیت کے اس ماحول میں کسی کو احساس ہی نہیں پاکستان کے ساتھ کیا ہونے جا رہا ہے اور کشن گنگا ڈیم کی تکمیل ایک انتہائی خوفناک منظر نامہ ہے،ان خیالات کا اظہار اس نے دورہ سجاول کے موقع پر صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کیا اس نے کھاکہ عالم امن میں معصومیت کا رنگ آلاپنے والے عالمی دہشتگرد بھارت نے 22 کلومیٹر سرنگ بنا کر پاکستانی پانی کا رخ موڑ دیا ہے اور دریائے نیلم کے پانی پے بھارتی ڈاکے کے بعد اہلیاں پاکستان سمیت جنگلی جیوت و جنگلات کا مستقبل بھی ایک سوالیہ نشان ہوگا،اور پانی کے ڈاکہ پر حکومت وقت و عوام کی پراسرار خاموشی مکمل تباہی کا دستک دے رہی ہے پر یہاں کسی کو پرواہ تک نہیں ہے اور اس سارے معاملے میں ہماری حکومت نے جس بے بصیرتی،جہالت اور مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کیا وہ اس سے بھی زیادہ خوفناک ہے۔اس نے کھاکہ بھارت نے کشن گنگا ڈیم کے بھانے سے کروڑوں انسانوں سمیت جانوروں و جنگلی جیوت کی زندگیوں سے کھل کر کھیلنا شروع کرتے ہوئے سندھ طاس معاہدے کی دھجیااں اڑا دیں اور اب جب انتہاپسند مودی کی جانب سے اس ڈیم کا افتتاح کیا تو بھی ہمیں ہوش نہیں ہے اور ہماری حکومت کو کوئی پرواہ تک نہیں ہے،سابقہ وفاقی وزیر نے کھاکہ پانی ہمارے لیے موت و حیات کا مسئلہ ہے  لیکن ہمیں کوئی حیا نہیں آ رہی کہ اسے سنجیدگی سے لیں ہمارے ہاں کشن گنگا کی واردات پر نہ حکومت بول رہی ہے نہ اپوزیشن۔اس نے کھاکہ آج کسی کو احساس تک نہیں لیکن یاد رکھیے، وہ وقت اب زیادہ دور نہیں جب آپ ہم سب کو معلوم ہو جائے گا کہ ہم پانی کے کس خوفناک بحران سے دوچار ہو چکے ہیں۔ اس سماج کی غیر سنجیدگی اور کھلنڈرے پن سے اب خوف آ نے لگا ہے پانی کا خوفناک بحران ہماری دہلیز پر دستک دے رہا ہے اور ہم خاموشی کی لمبی چادر اوڑ کے گہری نیند تلے سو چکے ہیں۔