سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ،جرائم میں ملوث اعلی پولیس افسران کیخلاف کارروائی

کراچی(بولونیوز)سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ نے جرائم میں ملوث 35اعلیٰ پولیس افسران کے خلاف کارروائی کی رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کردی ہے۔عدالت نے سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ سے دو ہفتوں میں تمام انکوائریوں کا جامع جواب طلب کرلیا۔پیرکوسپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں کرمنل ریکارڈ رکھنے والے پولیس اہلکاروں سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی جہاں سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ نے 35اعلی پولیس افسران کے خلاف کی جانے والی کارروائی کی رپورت پیش کی جہاں عدالت نے سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ کی رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ کو رپورٹ کے ہمراہ انکوائری رپورٹ منسلک کرنے کی ہدایت کردی جبکہ بعض پولیس افسران کے خلاف انکوائریاں ختم کرنے پر عدالت نے برہمی کا اظہار کیا عدالت کا کہنا تھا کہ بڑے پولیس افسران کو چھوڑ دیا تو چھوٹوں کا کیا قصور عدالت نے کہا کہ بڑی بڑی مچھلیوں کو چھوڑ کر چھوٹوں کو پکڑ لیا جاتا ہے۔ذرائع کےمطابق جسٹس گلزار احمد کا کہنا تھا کہ کسی بڑے افسر کو چھوڑنے کی اجازت نہیں دیں گے۔اگر بڑوں کو چھوڑنا ہے تو چھوٹوں کو بھی چھوڑ دیں۔کسی اعلی پولیس افسر کے کیس کو اس کیس سے الگ نہیں ہونے دیں گے۔ایک ایک پولیس افسر کے ریکارڈ کا جائزہ عدالت خود لے گی۔ ڈپٹی اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ بعض اعلی پولیس افسران کے خلاف کوئی کرمنل ریکارڈ نہیں,غلام حیدر جمالی سمیت اعلی پولیس افسران غیر قانونی بھرتیوں میں ملوث ہیں۔یاد رہے کہ ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل کا کہنا تھا کہ جن اعلی پولیس افسران کا کرمنل ریکارڈ نہیں انہیں بھی اس فہرست میں شامل کردیا گیا۔اٹارنی جنرل آفس کی جانب سے جواب داخل نہ کرانے پر عدالت نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ 26 مئی کی رپورٹ کا جواب نہ دینا ناقابل معافی ہے۔عدالت نے حکم دیا کہ اٹارنی جنرل اپنے کراچی آفس کے اسسٹنٹ کے خلاف فوری کارروائی کریں, عدالت نے سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ سے دو ہفتوں میں تمام انکوائریوں کا جامع جواب طلب کر لیا۔