ملیرجیل کے اہلکار،سامان کی تلاشی پر50 روپے وصولی کررہے ہیں

کراچی(بولونیوز)ملیر جیل کا اہلکار طارق عرف گجر جس کی ڈیوٹی تلاشی کی ہے جیل پرآنے والے ملاقاتیوں کے سامان کی تلاشی کے نام پر فی سامان کی تھیلی پر 50 روپے اور قیدی کو اس کے اہلخانہ کی طرف سے دیے گئے 1000 روپے سے 200 کے حساب سے الگ لیتا ہے اسی طرح کورٹ سے واپسی پر 350 قیدیوں سے فی قیدی 50 روپے الگ تلاشی کے نام پر لیتا ہے اگر قیدی کے پاس 1000 روپے ہیں تو اس کے حساب سے 200 روپے الگ لیتا ہے آج اس اہلکارکی شاہ لطیف ٹاؤن میں 25 دکانیں 12 پلاٹ اور4 سنگل اسٹوری کے مکان ہیں
ملیرجیل میں کراٹین نامی ایک تشدد خانہ ہے جس میں نئے آنے والوں قیدیوں کو رکھا جاتا ہے پرانے اور سزایافتہ قیدیوں کے ہاتھوں سے ان پر تشدد اور اذیت دیا جاتا ہے تب تک جب تک اس کے گھر والوں سے فی کیس 25000 کے حساب سے وصولی نہ ہوجائے ان کے گھر والوں کو فون کرواکر ان قیدیوں کی چیخیں سناکر ان کے گھر والوں کو مجبور کردیا جاتا ہے اور منہ کھولنے پر ان کے قیدی کو جان سے مارنے کی دھمکی دے کر ڈرا دھمکا کر خاموش اور بلیک میل کردیا جاتا ہے-دوسری جانب ملیر جیل کے اہلکار ارشاد ماڑی گیٹ پر ڈیوٹی دیتے ہیں جو قیدی کورٹ سے واپسی آتے ہیں اگر 100 کا نوٹ ارشاد صاحب کو دینگے تو اس کو ماڑی کے اندر لے کر بٹھاتا ہے جو قیدی نہیں دیتے تو ماڑی کے باہر گرم دھوپ میں زمین پر اپنی باری کا انتظار کرتے رہینگے-ملیر جیل کے ماڑی کے منشی افتخار صاحب بھی پیسے دینے والوں کو اچھی جگہ اوپر سب سے پھلے بٹھاتے ہیں نہ دینے والوں کو زمین پر سب کے آخر میں بٹھاتے ہیں