نیب نے کے کے بلڈرز کے مالک منیر سلطان کے خلاف انکرائری کھول دی

کراچی (ایچ آراین ڈبلیو) قومی احتساب بیورو کراچی ریجنل بورڈ کی میٹنگ ڈی جی نیب کراچی محمد الطاف باوانی کی سربراہی میں ہوئی۔ بورڈ میٹنگ میں 4 انویسٹیگیشن کی منظوری دی گئی۔ سیکریٹری محکمہ لوکل گورنمنٹ سندھ رمضان اعوان کے خلاف انکوائری کی منظوری کے لیے چیئرمین نیب کو سفارشات بہیجی گئیں ۔ رمضان اعوان پر اختیارات کے نا جائز استعمال اور بد عنوانی کے الزامات ہیں ۔
میٹنگ میں کے کے بلڈرز کے مالک منیر سلطان کے خلاف بھی تحقیقات کی منظوری دی گئی ۔ کے کے بلڈرز کے مالک نے 1998 کے دورانیہ مین سرکاری زمین پر میگا مال کے نام سے غیر قانونی بلڈنگ تعمیر کرکے کروڑون روپیہ بکنگ کی مد میں وصول کیئے اور تاحال فلیٹ اور دکانیں مالکان کے حوالے نہیں کیں۔ نیب کراچی کے ایک اعلامیہ کے مطابق ڈی جی نیب کراچی نے مزید دو انویسٹیگیشن کی بھی منظوری دی۔ ۔ ضلعی اکاونٹ آفس دادو اور جامشورو کے ڈسٹرکٹ اکاونٹ افسرون سمیت محکمہ تعلیم کے افسران کے خلاف 2015-16 کے دورانیہ میں محکمہ تعلیم کے ملازمین کو غیرقانونی طور پر اضافی رقم جاری کرنے کی تحقیقات کی منظوری لی گئی۔ بورڈ میٹنگ میں ڈی جی نیب نے ہدایتیں جاری کیں کہ ٹنڈوالہیار اور ٹھٹہ ضلع میں چلنے والی ڈسٹرکٹ اکاونٹ افیسز کی انکوائریز کو بھی جلد مکمل کیا جائے۔ بورڈ میٹنگ میں سندھ ایمپلائیز سوشل سیکورٹی انسٹیٹیوٹ (SESSI) کے دو عدد ڈاکٹرز کے خلاف بھی تحقیقات کی منظوری دی گئی ، ڈاکٹرز نے بیک وقت پچیس سالوں سے غیر قانونی طور پر دو محکموں میں ملازمتیں کی اور قومی خزانہ کو نقصان پہنچایا۔ بورڈ میٹنگ میں ڈی جی نیب کراچی نے محمد ظفر منیار جوکے حمیر ایسوسی ایٹ کا مالک ہے جنہوں نے سچل سرمست ٹائون بنایا اس پر انہوں نے پہلے سے پلی بارگین کے تحت عدالت میں پلاٹس دینے کی انڈرٹیکنگ دی تھی لیکن متعدد پلاٹس کے مالکان کو پلاٹس نہیں دئیے ان کے خلاف بھی قانونی کاروائی کا حکم دیا۔ بورڈ میٹنگ میں ڈی جی نیب کراچی محمد الطاف باوانی نے انویسٹیگیشن ٹیم کو انکوائریاں اور لوکل گورنمنٹ کے معاملات وقت پر مکمل کرنے پر سراہا۔ اس موقع پر ڈی جی نیب نے احکامات جاری کیئے کہ چیئرمین نیب کے احکامات کی روشنی میں انویسٹیگیشن بلاتفریق جلد از جلد میرٹ پر مکمل کی جائیں ۔