مزدوروں ہلاکت کیس،کسی قسم کی امداد نہیں ملی، لواحقین کی دہائیاں

اسلام آباد(بولونیوز) خاران میں 6 مزدوروں کی ہلاکت پرازخود نوٹس کیس میں بلوچستان حکومت نے امدادی پیکج کی تفصیلات سپریم کورٹ میں جمع کرا دیں۔تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ نے خاران میں 6 مزدوروں کے لواحقین کیلئے نجی موبائل کمپنی اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے اعلان کردہ رقوم ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج اوکاڑہ کو جمع کرانے کے احکامات دیئے ہیں۔ سیشن جج خود لواحقین میں رقوم تقسیم کریں گے، دالت نے اوکاڑہ پولیس کو متاثرہ خاندان کوتحفظ فراہم کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے بلوچستان کے علاقے خاران میں موبائل ٹاورکی تنصیب کے دوران6 مزدوروں کی ہلاکت سے متعلق ازخود نوٹس کی سماعت کی۔ مزدوروں کے لواحقین نے عدالت کو بتایا کہ دہشتگردی کے باوجود اپنے عزیزوں کوپرامن اندازسے دفن کیا، کسی قسم کی امداد نہیں دی گئی، عدالت میں جھوٹ بولا جارہا ہے، مقامی ٹھیکیدار کی جانب سے دھمکیاں مل رہی ہیں، تحفظ فراہم کیا جائے۔ایک نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق موبائل کمپنی کے وکیل نے بتایا کہ جاں بحق افراد ے لواحقین کو10لاکھ روپے فی کس مالی امداد کے ساتھ ساتھ 3 سال کیلئے 20، 20 ہزار روپے ماہانہ بھی دیئے جائیں گے۔ پنجاب اور بلوچستان حکومتوں کی جانب سے بھی مزدوروں کے لواحقین کو 10، 10 لاکھ روپے فی کس امداد کی یقین دہانی کرائی گئی۔جبکہ عدالت نے بلوچستان حکومت کوحکم دیا کہ زخمی مزدوروں کو پانچ لاکھ روپے فی کس امداد دی جائے۔ عدالت مزدوروں کے لواحقین کو مقامی عدالت کے ذریعے ادائیگی کرانے کا حکم دیتے ہوئے نجی موبائل کمپنی اورصوبائی حکومتوں کو اعلان کردہ رقوم ڈسٹرکٹ سیشن جج اوکاڑہ کے پاس جمع کرانے کا حکم دیا جوخود لواحقین میں رقوم کی تقسیم کریں گے جبکہ اوکاڑہ پولیس کو متاثرہ خاندان کو تحفظ فراہم کرنے کا بھی حکم دیا گیا، مقدمے کی مزید سماعت جون کے پہلے ہفتے تک ملتوی کر دی گئی۔