کابل،قندھاردھماکے،صحافیوں،طالبعلموں سمیت 41 جاں بحق

کابل(بولونیوز)​افغانستان کے دارالحکومت کابل اورقندھارمیں خودکش بم دھماکوں کےنتیجے میں صحافیوں اورمد ر سے کے طالب علموں سمیت41 افراد جاں بحق ہوگئے۔تفصیلات کے مطابق پہلا دھماکا ششدرک کےعلاقے میں افغان خفیہ ایجنسی ‘این ڈی ایس’ کے دفتر کے قریب ہوا،جبکہ دوسرادھماکا 20 منٹ بعد وزارت شہری ترقی اور ہاؤسنگ کے ہیڈکوارٹرز کے باہراُس وقت ہوا، جب وہاں صحافی اورسیکیورٹی اہلکار موجود تھے۔یاد رہے کہ افغان جرنلسٹس سیفٹی کمیٹی (اے ایف جے ایس سی) نے دھماکوں میں8 صحافیوں کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کی،میڈیا ذرائع کے مطابق ہلاک ہونے والے صحافیوں میں فرانسیسی خبررساں ادارے’اے ایف پی’ کا چیف فوٹوگرافرشاہ مری بھی شامل ہے،جو پہلے دھماکے کی کوریج کے دوران دوسرے دھماکے کی زد میں آیا، جبکہ خبررساں ادارےرائٹرز کے فوٹوگرافر سمیت 5 صحافی دھماکوں میں زخمی بھی ہوئے۔وزارت صحت کے ترجمان نے دھماکوں میں 29 افراد کے جاں بحق اور 49 کے زخمی ہونے کی تصدیق کی۔ کابل پولیس کے ترجمان نے ششدرک میں ہونے والے دھماکے کے خودکش ہونے کا بھی شبہ ظاہر کیا۔یاد رہے کہ شدت پسند گروپ داعش نے دھماکوں کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا۔دوسری جانب قندھار میں کار بم دھماکہ،بعدازاں افغان صوبہ قندھار میں ہونے والے خودکش کار بم دھماکے میں مدرسے کے 11 طلبہ سمیت 16 افراد جاں بحق ہوگئے۔افغان خبر رساں ادارے طلوع نیوز نے صوبائی حکام کے حوالے سے بتایا کہ دھماکا ضلع دامن کے گاؤں حاجی عبداللہ خان میں صبح 11 بجے کے قریب اُس وقت ہوا جب ایک خودکش بمبار نے دھماکا خیز مواد سے بھری گاڑی اڑا دی۔حکام کے مطابق حملہ آور کا ہدف رومانیہ کے فوجی دستے تھے، جو اس علاقے میں گشت میں مصروف تھے۔قندھار کے میڈیا آفس کے نائب ترجمان مطیع اللہ کے مطابق جائے وقوع کے قریب واقع ایک مدرسے کے 11 طلبہ بھی دھماکے کا نشانہ بنے۔