سب رجسٹرار، گلشن II میں اندھیر نگری چوپٹ راج قائم

کراچی (ایچ آراین ڈبلیو) سب رجسٹرار۔گلشن II میں اندھیر نگری چوپٹ راج قائم۔ سائلین در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور۔ ہر جائز کام میں اعتراض لگا کر لوگوں سے رشوت کا تقاضا کیا جاتا ہے۔ رشوت نہ دینے پر رجسٹریشن روک دی جاتی ہے اور سالوں سال سردخانے کی نذر کر دی جاتی ہے۔ جس سے نہ صرف عام افراد متاثر ہو رہے ہیں بلکہ خواتین اور بزرگ بھی اس قرب اور اعزیت کا شکار ہوتے رہتے ہیں۔ کچھ بزرگ تو سارا دن گرمی اور دھوپ میں بیٹھے بیٹھے بے ہوش ہو جاتے ہیں۔ یہ سارا دھندہ چھپ چھپا کے نہیں بلکہ دن دہاڑے سر عام کیا جارہا ہے جس کا سہرہ گلشن اقبال۔II کے سب رجسٹرار عمران اور نوعمر پیشگار مرتضیٰ نندوانی کے سر ہے۔ جس نے اس کم عمری میں رشوت کی دنیا میں اپنا لوہا منوایا ہے۔ اور جس کے لیے کہا جاتا ہے کہ سب رجسٹرار کی ٹرانسفر اور پوسٹنگ بھی یہ اپنی مرضی سے کرواتا ہے اور پھر ان سے ناجائز کام کروا کر رشوت کی نئی نئی مثالیں رقم کرتاہے۔ متعدد بار لوگوں نے مذکورہ بالا ملازمین کی شکایت متعلقہ محکموں اور حکام بالا سے کی ہے مگر کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔ سائلین نے اس سلسلے میں اب چیرمین نیب جناب جسٹس جاوید اقبال اور چیف جسٹس آف پاکستان جناب جسٹس ثاقب نثار سے نوٹس لینے کی اپیل کی ہے۔ اور ان کے خلاف سخت سے سخت کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ حالات اس قدر نازک ہیں کے ان لوگوں نے آفس میں اپنے کارندے چھوڑے ہوئے ہیں اور میڈیا کے نمائندوں کو کوریج کرنے تک کی اجازت نہیں ہے اور کئی بار میڈیا نمائندگان نے کوریج کرنے کی کوشش کی مگر ان کے مسلح کارندوں نے نہ صرف انہیں ذدوکوب کیا بلکہ ان کو حبس بےجا میں رکھ کر تشدد کا نشانہ بھی بنایا۔