سوشل میڈیا میں وائرل ہونے کے بعد مری کے بائیکاٹ کی مہم زور پکڑ گئی

کراچی (ایچ آراین ڈبلیو) سوشل میڈیا پر مری کے دکانداروں اور ریسٹورنٹ والوں کی جانب سے ہتک آمیز رویوں کے خلاف مری بائیکاٹ کی مہم زور پکڑ گئی ہے- سوشل میڈیا میں عوام کو آگاہ کیا گیا ہے کہ آئے روز مری میں سیرو تفریح کے لیئے جانے والوں پر مقامی درندہ نما غنڈہ عناصر کی طرف سے فیملیز پر تشدد بد تمیزی لڑائی جھگڑا مار پیٹ معمول بن گیا بے ان بے لگام گنڈہ گرد عناصر نے مری کو مقبوضہ مری بنادیا ہے پچھلے دو تین سال سے مسلسل اس گنڈہ گردی میں اضافہ ہوتا جارہا ہے پولیس انتظامیہ خاموش تماشائی بن کر اپنی موج مستیوں میں گم ہے دور دراز سے نعمت خداوندی کا نظارہ کرنے کے لیے آنے والے مہمانوں کا کوئی پرسان حال نہیں مال روڑ پر کینٹ ایریا ہونے کے باعث پاک آرمی کے جوان اپنا کنٹرول سنھبالے قدم قدم پہ نظر آتے ہیں مگر عوامی حلقوں میں اور سیاحتی مقامات پر پولیس انتظامیہ کہیں بھی نظر نہیں آتی پولیس اسٹیشن میں شکائیت کرنے پر بھی کوئی آزالہ نہیں ہوتا کیونکہ موجودہ نظام نے محکمہ پولیس کا بیڑہ غرق کر دیا ہے پولیس والے مقامی لوگوں سے کچھ لے دے کر بات کو ختم کر دیتے ہیں کیونکہ سیاحوں نے انہیں کیا دینا ہے بعض ناخوشگوار واقعات کے پیش نظر سیاحتی مہمان اپنی تزلیل کے بعد مری کو علاقہ غیر کا نام دے کر فورا واپس آنے کو ترجیح دیتے ہیں اس لیے میں درخوست گزار ہوں کہ پاک آرمی اس مسلاء کی طرف غور فرماۓ اور اگر ایسے حالات رہے تو یہ سیاحتی مقام بالکل ویران نظر آۓ گا کیونکہ آج بھی مری کے بائیکاٹ کی خبریں عام ہیں سیاحوں کا کہنا یے کہ پورا پاکستان مری کا بائیکاٹ کرے تاکہ ان انسانوں کی شکل میں بھیڑیے نما جانوروں کے ہوش ٹھکانے آئیں اور یہ سیرو تفریح پر نہ آنے والے لوگوں کے لیئے ترسیں جب ان کے کاروبار ٹھپ ہوں گے اور ان جانوروں کو بھوک تپائے گی تب ان کو سمجھ آئے گی کہ گھر آئے مہمانوں کے ساتھ کیا رویہ رکھنا چاہیئے اس پوسٹ کو اتنا پھیلاؤ کی پورے پاکستان کے لوگوں تک پہنچ جائے اور سب مری کا بائیکاٹ کریں پاکستان میں اللہ پاک نے اور بہت سی خوبصورت اور اچھی جگہیں بنائ ہیں جیسے ایبٹ آباد (ٹھنڈیانی) (شملہ پہاڑی) (الیاسی مسجد) (دریائے ھرنو)(نتھیا گلی) (ایوبیہ )(ناران )(کاغان) آزاد کشمیر ۔۔ سوات وغیرہ کہیں بھی جائیں مگر مری کا بائیکاٹ کریں۔