بجٹ2018،2019وزیرخزانہ نے پارلیمنٹ میں‌پیش کردیا

اسلام آباد(بولونیوز) وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل نے بجٹ 2018،19پارلیمنٹ میں پیش کردیا۔ بجٹ تقریرمیں ان کاکہناتھاکہ نئی مالی سال کابجٹ پیش کرناحکومت کی ذمےداری ہے۔ بجٹ پیش کیےبغیرحکومت ایک دن بھی نہیں چل سکتی۔ بجٹ پاس نہیں ہواتوبزنس میں کچھ پلان نہیں کرسکتے۔انھوں نےکہاکہ ملک میں بڑےپیمانےپرکارخانےبندہورہےتھےاور کسا نوں کےپاس ٹیوب ویل چلانےکےلئےبجلی نہیں تھی۔قومی اسمبلی میں بجٹ تقریرکےدوران وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل نےبتایاکہ ملک دہشت گردی کی لپیٹ میں تھا۔ بدعنوانی اوردہشت گردی عام تھی۔ آج پاکستان دنیا کی24ویں بڑی معیشت ہے۔ اندرونی اوربیرونی حالات کےباعث برآمدات کاشعبہ دباؤکاشکاررہاہے۔وزیرخزانہ نے بتایاکہ کپاس،گنےاورچاول سمیت دیگرفصلوں میں واضح اضافہ ریکارڈکیاگیا۔ صنعتی شعبےمیں5.8فیصداضافہ ہوا۔ معیشت کاحجم34ہزارارب سے بڑھ چکاہے۔ان کاکہناتھاکہ افراط زرکی شرح3.8فیصدرہی۔ وزیرخزانہ نےبتایاکہ5برسوں کےدوران ٹیکس وصولیوں میں ریکارڈاضافہ ہوا۔ کاروباراورصنعت میں ترقی آئی،روزگارکےمواقع پیداہوئے۔ نجی شعبےکےقرضوں میں 383 فیصد اضافہ ہوا۔ گزشتہ9ماہ کےدوران برآمدات میں13فیصداضافہ ہوا۔وزیرخزانہ کاکہناتھاکہ حالیہ سال زرعی شعبےکی ترقی کی شرح3.58فیصدرہی۔ سی پیک کےتحت مختلف منصوبوں میں وسیع سرمایہ کاری ہورہی ہے۔ زرعی شعبے کو 800 ارب روپےکےقرضےدےرہےہیں۔ معیشت کاحجم34ہزارارب سےبڑھ چکاہے۔ شرح سودمیں کمی کی وجہ سے کا ر و با رمیں اضافہ ہوا۔مفتاح اسماعیل نے کہاکہ زرعی قرضوں پرشرح سودمیں کافی حدتک کمی آئی۔ 30جون کوزرمبادلہ کےذخائرآج سےزیادہ ہوں گے۔اسٹاک ایکسچینج سے متعلق انھوں نے کہاکہ اسٹاک ایکسچینج تاریخ کی بلندترین سطح پرپہنچ گیاہے۔ 5سال میں33ہزارسےزائدنئی کمپنیاں رجسٹرڈ کی گئیں۔انھوں نے بتایاکہ معاشی اصلاحات پیکج میں ٹیکسوں میں کمی کی گئی۔ 12لاکھ سالانہ آمدن والےافرادکوٹیکس سےاستثنیٰ دیاگیاہے۔ وزیرخزانہ کی جانب سے7نکاتی بجٹ حکمت عملی اہداف کااعلانبھی کیاگیا۔ افرازرکی شرح6فیصدسےکم رکھنےکاہدف رکھاگیاہے۔