ایف بی آراپنے اختیارات کا غلط استعمال کررہی ہے، مراد علی شاہ

کراچی (بولونیوز)وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ ایف بی آر اپنے اختیارات کا غلط استعمال کررہی ہے، سندھ کے مختلف محکموں کو ایف بی آر سے تمام کلیم ری کنسائل کروانے کی ہدایت ، ایف بی آر اپنے اہداف کی تکمیل کیلئے سندھ حکومت پر غیر آئینی واجبات ڈالتی جارہی ہے۔ انھوں نے یہ بات آج وزیراعلیٰ ہاؤس میں ایف بی آر کی جانب سے سندھ حکومت کے مختلف محکموں کے اکاؤنٹس سیل کرنے سے متعلق اہم اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔اجلاس میں چیف سیکریٹری رضوان میمن، وزیراعلیٰ سندھ کے پرنسپل سیکریٹری سہیل راجپوت و تقریباً تمام محکموں کے سیکریٹریزو اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں سندھ حکومت کے مختلف محکموں کے اکاؤنٹس سیل کرنے کے معاملہ، غیر آئینی ثالثی کٹوتیوں اور ایف بی آر کے ہتھکنڈوں پر وزیراعلیٰ سندھ نے فیصلہ کرتے ہوئے محکمہ خزانہ سندھ کو ہدایت کی ہے کہ متعلقہ مسئلہ کے فوری حل کیلئے ایف بی آر اور وفاقی وزارت خزانہ سے بات کریں، سندھ حکومت کے اکاؤنٹ سے جو بھی کٹوتی کرے گا اسکے خلاف کاروائی کریں گے۔ انھوں نے کہا کہ ایف بی آر اپنے اہداف پورے کرنے کے لیے سندھ حکومت پر واجبات ڈالتی جارہی ہے ، محکمہ پبلک ہیلتھ انجنرینگ نے 450 ملین روپے کے چالان ادا کرنے کے باوجود انکے اکاؤنٹس سے کٹوتی کیلئے کہا گیا اور جیوٹ انڈسٹری ٹیکس سے مستثنیٰ ہے پھر بھی ٹیکس کی کٹوتی کے نوٹس آئے ۔ مراد علی شاہ نے کہا کہ ایف بی آر کی جانب سے سندھ کے مختلف محکموں کو ٹیکس کے مد میں 4.3 بلین روپے کے بلز بھیجے گئے ہیں۔ اجلاس میں وزیراعلیٰ سندھ کو آگاہی دی گئی کہ ایف بی آر کی جانب سے بینکوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ سندھ حکومت کے اکاؤنٹس سے ٹیکس کٹوتی کے بعد انھیں چیکس بھیجے جائیں۔ جس پر وزیراعلیٰ سندھ نے بتایا کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان پہلے ہی ہدایت کرچکی ہے کسی بھی بینک کو سندھ حکومت کے اکاؤنٹس سے منسلک نہیں کیا جاسکتا اس کے برعکس اگر کسی بھی بینک نے سندھ حکومت کے اکاؤنٹس سے پیسا نکال کر ایف بی آر کو منتقل کیا تو اسکے خلاف ہم سخت کاروائی کریں گے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے سندھ روینیو بورڈ کو ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ سندھ کے تمام محکموں کی رہنمائی کریں، انھوں نے مختلف محکموں کے سیکریٹریز کو بھی ہدایت کی کہ صوبائی حکومت ایف بی آر سے تمام کلیم ری کنسائل کرے۔