حکومت سندھ کی ناکام پبلک ٹرانسپورٹ پالیسی، موٹرسائیکلوں کی تعداد میں 20 فیصد اضافہ

کراچی (ایچ آراین ڈبلیو) حکومت سندھ کی ناکام پبلک ٹرانسپورٹ پالیسی کے نتیجے میں شہر قائد میں موٹرسائیکلوں کی تعداد میں 20 فیصد اضافہ ہوگیا ہے جب کہ پہلے سے موجود بسوں اور کوچز کی تعداد کل وہیکل کے مقابلے میں 5 فیصد سے کم ہوکر 3.5 فیصد رہ گئی ہے۔ ایشین ڈیولپمنٹ بینک کی سروے رپورٹ حکومت سندھ کو پیش کردی گئی ۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2012 ء میں شہر قائد میں کل گاڑیوں میں سے 5 فیصد بسیں تھیں ا ور 33 فیصد موٹرسائیکلیں تھیں لیکن اب 2018 ء میں کراچی میں چلنے والی کل گاڑیوں میں بسوں کی تعداد مسلسل کم ہوکر3.5 یعنی ساڑھے تین فیصد رہ گئی ہے جب کہ شہری مجبوراً موٹرسائیکلیں استعمال کرنے لگے ہیں جن کی تعداد کا تناسب 2012 ء میں 33 فیصد تھا اور 2018 ء میں بڑھ کر 53 فیصد ہوگیا ہے ۔ سیکرٹری ٹرانسپورٹ سعید اعوان نے بتایا کہ صوبائی حکومت نے نئی بسیں چلانے کی مختلف اسکیموں پر کام مکمل کرلیا ہے جب کہ گرین لائنز، بلیو لائنز، اورنج لائنز کے منصوبے مکمل ہونے سے صورتحال میں نمایاں بہتری آجائے گی اور جب کراچی سرکلر ریلوے کا ماس ٹرانزٹ پروجیکٹ بھی آجائے گا تو مسائل پر قابو پایا جاسکے گا۔ صوبائی حکومت نے ڈائیوو کمپنی کے ساتھ بات چیت مکمل کرلی ہے 10 ائرکنڈیشنڈ بسیں جلد ہی قائد آباد تا ٹاور روٹ پرچلائی جائیں گی جب کہ صوبائی حکومت کی مضاربہ اسکیم کے تحت ڈائیوو کمپنی 288 مزید نئی بسیں بھی کراچی کی سڑکوں پر چلائے گی۔