خواتین کوروزانہ مختلف طریقوں سے ہراساں کیا جاتا ہے، ڈاکٹرخالدہ غوث

کراچی(ایچ آراین ڈبلیو) ضیاالدین یونیورسٹی کی جانب سے خواتین کے عالمی دن کے حوالے سے خواتین کے جنسی استحصال اور ہراساں کئے جانے کے خلاف سیمینار کا انعقاد کیا گیا جس کا مقصد خواتین میں موجود جھجھک، ڈر اور خوف ختم کر کے انہیں مضبوط اور خود اعتماد بنانا تھا ۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوے ڈاکٹر خالدہ غوث کا کہنا تھا کہ ہر عورت کے ایک پیچھے ایک ہراسگی کی کہانی چھپی ہوتی ہے، کچھ میں دنیا کو بتانے کی جرات ہوتی ہے جبکہ اکثر خواتین اپنے گھر والوں کو بھی بتانے کی ہمت نہیں رکھتی ہیں۔ ایک سروے کے مطابق ہمارے یہاں 85 فیصد خواتین کو عوامی مقامات اور دوران سفر عوامی گاڑیوں میں روزانہ مختلف طریقوں سے ہراساں کیا جاتا ہے۔ ہمیں یہ معلوم ہونا چاہیے کہ خواتین کو ہراساں کرنے سے متعلق شکایات درج کرانے کے لیے مکمل قانون موجود ہے مگر ہمارے معاشرے کی ستم ظریفی ہے کہ جنسی استحصال اور ہراساں کیے جانے کی رپورٹ درج کرانے سے خواتین گریز کرتی ہیں۔
ڈاکٹر خالدہ غوث کا مزید کہنا تھا کہ ہمیں خواتین میں ہراسگی کی اصل معنی سے متعلق علم مہیا کرنے کی ضرورت ہے، خود اعتمادی کو بڑھاوا دینا ہے۔ خود اعتمادی، احترام اور وقار کا بوجھ صرف عورت کے کاندھوں ڈال دیا جاتا ہے اور پھر استحصال بھی اسی کا ہوتا ہے۔ مجموعی طور پر ہمیں خواتین کے جنسی استحصال اور ہراساں کیے جانے کے خلاف آواز اٹھانے کی ضرورت ہے۔
معروف ماڈل اور ٹی وی اداکارہ ثروت گیلانی کا کہنا تھا خواتین کے حقوق اور جنسی استحصال کے خلاف آواز اٹھانے کی ذمہ داری ہماری ہی ہے اس کے لیے کوئی اور آگے نہیں آئے گا۔ ہم میں منع کرنے اور ڈٹ جانے کی ہمت ہونی چاہیے ۔ خواتین کے حقوق سے متعلق قوانین عام ہونا چاہیے اور ہر عورت کا حق ہے کہ وہ ان قوانین سے مکمل آگاہ ہو۔
سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے سماجی کارکن اور ایڈووکیٹ ضیاءاحمد اعوان کا کہنا تھا کہ جنسی استحصال سے ہمارے ملک کے نچلے طبقے کی آبادی کی خواتین سب سے زیادہ متاثر ہیں جو کہ اپنے تحفظات کا اظہار نہیں کر سکتیں کیونکہ معاشرہ ان کی بات سننا پسند نہیں کرتا اور نہ ہی انہیں اس بات کی اجازت ہوتی ہے کہ وہ کسی بھی فورم پر کھل کر اپنی شکایات درج کرا سیکیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم سب مل کر ایسی بے آواز خواتین کی آواز بنیں۔
اس موقع پر سائیکولوجسٹ ڈاکٹر عطیہ نقوی کا کہنا تھا کہ ٓاج کی عورت پہلے سے کہیں ِزیادہ مظبوط ہے۔ اسے چاہیے کی وہ اپنے تحفط اور حقوق کے لیے خود آواز بلند کرنے کیونکہ جب تک وہ بولے گی نہیں یہ معاشرہ اسے کمزور سمجھتا رہے گا۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے طور پر خواتین کے تحفظ کا خیال رکھیں تاکہ ملکی ترقی میں خواتین بلا خوف و خطر مردوں کے شانہ بشانہ کام کرسکیں۔
تقریب کے آغاز پر مقررین کو خوش آمدید کہتے ہوئے ضیاءالدین یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر پیرزادہ قاسم کا کہنا تھا کہ آج کی عورت اکیسویں صدی کی عورت ہے اور خود پر مکمل اعتماد ہی انہیں جنسی استحصال اور ہراساں ہونے سے بچا سکتا ہے۔ ہم ایک مرد پرور معاشرے میں رہتے ہیں مگر خواتین کے تحفظ کو سمجھنے اور اسے یقینی بنانے کے لیے ہمیں بھی اپنا اہم کردار ادا کرنا ہوگا۔