ناریل کا تیل فالج و امراض قلب کی بیماریوں کا خطرہ کم کردیتا ہے،تحقیق

لندن: ناریل کے تیل کا چار ہفتے تک کھانا پکانے کے لیے استعمال امراض قلب اور فالج جیسی جان لیوا بیماریوں کا خطرہ کم کردیتا ہے۔
یہ دعویٰ برطانیہ میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا۔
کیمبرج یونیورسٹی کی تحقیق کے دوران 50 سے 75 سال کی ایسے 94 رضاکاروں کا جائزہ لیا گیا، جن میں سے کوئی بھی امراض قلب یا ذیابیطس کا شکار نہیں تھا۔
ان افراد کو تین گروپس میں تقسیم کرکے ناریل کے تیل، زیتون کے تیل یا بغیر نمک کے گھی کے تین چمچ روزانہ استعمال چار ہفتوں تک استعمال کرنے کی ہدایت کی گئی۔
محققین ان رضاکاروں پر تیل یا گھی میں موجود چربی کا کولیسٹرول لیول پر اثرات کا جائزہ لینا چاہتے تھے۔
نتائج سے معلوم ہوا کہ جن لوگوں نے گھی کو استعمال کیا، ان کے ایل ڈی ایل کولیسٹرول یا صحت کے لیے نقصان دہ قرار دیئے جانے والے کولیسٹرول کی سطح میں دس فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا۔
اسی طرح زیتون کے تیل کے استعمال سے ایل ڈی ایل کی سطح میں معمولی اضافہ ہوا جبکہ صحت کے لیے بہتر سمجھنے جانے والے ایچ ڈی ایل کولیسٹرول میں پانچ فیصد تک اضافہ ہوا۔
اس کے مقابلے میں جن افراد نے ناریل کے تیل کو استعمال کیا، ان میں ایچ ڈی ایل کی سطح میں اوسطاً 15 فیصد اضافہ ہوا۔
محققین کا کہنا تھا کہ جو لوگ ناریل کے تیل کو کھانا معمول بنا لیتے ہیں، ان میں امراض قلب اور فالج کا خطرہ کافی حد تک کم ہوجاتا ہے۔
تاہم ان کا کہنا تھا کہ فی الحال اس تحقیق کے نتائج مختصر المدت وقت کے ہیں اور اس حوالے سے غذائی عادات میں تبدیلی ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر نہ کریں۔
ان کے بقول کسی مخصوص تیل کو اپنانے کا فیصلہ صرف طبی اثرات سے ہٹ کر دیگر چیزوں کو مدنظر رکھ کر کیا جانا چاہئے۔