زینب قتل کیس،ملزم کوگرفتارکرکے سامنے لانا،اعتزازاحسن

قصور(بولونیوز) ملزم کو مقابلے میں نہ پھڑکانا، گرفتار کرکے منظرعام پرلانا، اعتزاز احسن کی زینب کے والد سے ملاقات کے بعد گفتگو۔ شہباز شریف پھرتی دکھائیں، ریحام خان کا بھی زینب کے گھر آمد کے موقع پرمطالبہ،تفصیلات کے مطابق رہنماء پی پی، سابق وزیر داخلہ اور ممتاز ماہر قانون اعتزاز احسن نے کہا کہ قصور میں ہونے والا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے، یہ واقعہ سیریل کلنگ کی مثال ہے، سیریل کلنگ میں ایک ہی شخص اغواء، زیادتی اور قتل کرتا ہے، اس معاملے میں پولیس لاتعلق نظر آئی، قصور کے شہریوں کو سلام پیش کرتا ہوں جس نے ساری دنیا کی توجہ واقعہ پر دلوائی، قصور والوں نے معاملے کو اجاگر کر کے بڑی بیماری کی تشخیص کی ہے۔ایک نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اعتزاز احسن نے کہا کہ 3 ہزار پولیس اہلکار شریف خاندان کی سکیورٹی پر مامور ہیں، شہباز شریف نے بزدلوں کی طرح رات کے وقت آ کر تعزیت کی ہے، سارا تحفظ وزیر اعلیٰ کے لئے ہے، ہم نے امن کے ساتھ رہنا ہے، کوئی سیاست نہیں کر رہے، ہم چاہتے ہیں کہ ٹھیک ملزم گرفتار ہو، ملزم کو کسی جعلی پولیس مقابلے میں مارا نہ جائے اور ملزم کے ڈی این اے کی رپورٹ غلط نہ ہو کیونکہ ہم چاہتے ہیں کہ اصلی ملزم پکڑا جائے اور اسے قرار واقعی سزا دی جائے۔واضح رہے سابق وزیر داخلہ نے مزید کہا کہ افسوسناک بات یہ ہے کہ پولیس کی فائرنگ سے 2 مظاہرین شہید ہوئے، گھٹنے کی پوزیشن میں اس وقت فائرنگ کی جاتی ہے جب سامنے سے بھی فائرنگ ہو رہی ہو، فائرنگ کرنے والے پولیس اہلکاروں اور افسروں کے خلاف کارروائی ہونی چاہئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ڈی این اے سے پتا چلتا ہے کہ سارے واقعات میں ایک ہی شخص ملوث ہے۔اعتزاز احسن نے مزید کہا کہ قصور میں ہونے والا یہ پہلا واقعہ نہیں، قصور واقعہ سیریل کلنگ کی مثال ہے، سیریل کلر کو گرفتار کرنا مشکل نہیں ہوتا، قصور میں بچوں سے زیادتی کی ویڈیوز کے ملزم چھوڑ دیئے گئے، بچوں سے زیادتی کے قانون میں کوئی سقم نہیں ہے، کیس عدالت میں جانے سے پہلے کا کام پولیس کا ہوتا ہے، پنجاب کی پولیس پاکستان کی بہترین پولیس ہوتی تھی لیکن شریف برادران نے پولیس کو گھر کا ملازم بنا لیا ہے، پولیس کا کام ثبوت اکٹھے کرنا ہے۔ سابق وزیر داخلہ نے مزید کہا کہ زینب کے معاملے میں سی سی ٹی وی فوٹیجز بھی شہریوں نے دیں، پولیس ثبوت اکٹھے نہیں کرتی تو عدالت میں بھی کیس کمزور ہو جاتا ہے۔