پاکستان میں اوسطاً ہر روز 11 معصوم بچے جنسی درندگی کا شکار بنتے ہیں، چشم کشا رپورٹ

ملتان(ایچ آراین ڈبلیو) ملک کا موجودہ نظام عدل اور حکومتی سیٹ اپ غریب کو انصاف دینے اور کچلے ہوئے طبقات کی حفاطت کرنے میں بری طرح ناکام ثابت ہوا ہے۔ نظام کی تبدیلی کے بغیر آئندہ بھی زینب جیسے معصوم پھول روندے جاتے رہیں گے۔ قصور کی معصوم بچی کو انصاف دینے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ درندہ صفت قاتل کی گرفتاری کے بعد قصور میں فوری پولیس مقابلہ کیا جائے ان خیالات کا اظہار سماجی تنظیم ینگ لیگ پاکستان کے زیراہتمام سانحہ قصور کے خلاف جمعہ کی سہ پہر ملتان پریس کلب کے سامنے کئے گئے پرامن احتجاجی مظاہرے میں شریک سیاسی و سماجی رہنماﺅں نے کیا جس میںپیپلز پارٹی، تحریک انصاف کی ، مسلم لیگ(ن) اور دیگر سیاسی سماجی تنظیموں کے رہنماﺅں نے بھی اظہار یکجہتی کیلئے شرکت کی۔ سانحہ کے خلاف شرکاءکی جانب سے شدید نعرہ بازی کی گئی۔ مظاہرے کی قیادت طارق قریشی، بشریٰ بخاری، سیدہ زنیرہ فاطمہ، دعا نایاب، مس طاہرہ، عائشہ شفیق، شازیہ بھٹی، ایم سلیم راجہ اور محمد علی رضوی کررہے تھے۔ جبکہ اس شاہد اقبال شیخ، ندیم مشتاق سولنگی، رانا بابر لیاقت، حاجی منیر،زاہد بھٹی، محبوب ملک، فیصل کریم، حمیرا شفیق، علی عمران آفریدی، رانا عبدالغفور، عارف بھٹی، عامر ریحان، خواجہ اشرف صدیقی، افضل پاشا، شہزاد عالی، وقار حسین شاہ، ڈاکٹر محمد رفیق، شہزاد عالم، رانا فیصل، غلام جعفر، احسن ظفر، وقاص شفیق، غلام مصطفےٰ اور فیاض بھٹی بھی شریک تھے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے قائدین نے کہا کہ قصور میں معصوم پری زینب کے وحشیانہ قتل پر پوری قوم اشکبار ہے۔ ہر صاحب دل سمیت پوری قوم اور دینا بھر کا میڈیا قاتل کی گرفتاری اور اسے عبرتناک سزا دینے کا مطالبہ کر رہی ہے۔ملزمان کو ابھی تک پکڑا نہیں گیا لیکن الٹا احتجاج کرنے والوں پر تشدد کے نتیجے میں دو افراد اپنی جان گنوا بیٹھے ہیں۔ حیرانگی کی بات یہ ہے کہ اتنے مصروف بازار سے وہ اغوائ کیسے ہوگئی۔ دراصل یہ سارا ظلم قصور میں دو سال قبل ہونے والے واقعات میں ملوث افراد کو سزا نہ دینے کا نتیجہ ہے۔ پولیس ریکارڈ اور مختلف تنظیموں کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ پاکستان میں اوسطاً ہر روز 11 معصوم بچے جنسی درندگی کا شکار بنتے ہیں اور صرف 2016 میں ملک بھر میں 100 بچے ایسے تھے جو زیادتی کے نتیجے میں اپنی زندگیوں سے ہاتھ دھو بیٹھے یا قتل کر دیے گئے۔جب کہ صرف قصور ضلع میں 2017 کے دوران 10 بچے زیادتی کے بعد قتل ہوئے۔2013 میں 3002 کیسز جنسی زیادتی کے رپورٹ ہوئے۔2014 میں ملک بھر میں 3508 بچوں کو جنسی بدفعلی کا نشانہ بنایا گیا۔ 2016 میں بچوں کے ساتھ زیادتی کے 2127 واقعات پیش آئے جب کہ 2017 میں 1764 وااقعات رپورٹ ہوئے۔یہ رپورٹ ہونے والے واقعات کی تعداد ہے۔اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔ 2016 میں جنسی زیادتی کے واقعات میں 850 بچوں اور 1277 بچیوں کو ہوس کا نشانہ بنایا گیا جبکہ 2017 میں یہ تعداد بالترتیب 697 اور 1067 رہی۔ صرف قصور میں ننھی کونپلوں سے زیادتی کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے اس سے قبل 06 اپریل 2016 کو تھانہ صدر کے علاقے تہمینہ نامی بچی کو زیادتی کے بعد قتل کرکے لاش زیر تعمیر مکان میں پھینک دی گئی، 4 مئی 2016 کو بھی صدر کے علاقے میں ثنا نامی بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا گیا، 8جنوری2017 کو عائشہ نامی بچی کو ہوس کا نشانہ بنا کر قتل کردیا گیا اور لاش زیر تعمیر مکان سے ملی۔19 فروری2017 کو صدر کے علاقے میں ملزمان نے 9 سالہ عمران کو زیادتی کے بعد موت کے گھاٹ اتار دیا، 24 فروری 2017 کو صدر کے علاقے میں ایمان فاطمہ نامی بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا گیا۔11 اپریل2017 کو صدر کے علاقے کی ایک اور معصوم بچی نور فاطمہ کو زیادتی کے بعد قتل کرکے لاش کھیتوں میں پھینک دی گئی۔21 اپریل2017 کو تھانہ صدر کے علاقے میں ہی فوزیہ نامی بچی کو زیادتی کے بعد قتل کردیا گیا،7 جون2017 کو جوئیاں اتاڑ میں 10 سالہ بابر کو زیادتی کے بعد گلا دبا کر قتل کیاگیا، 8 جولائی2017 کو کھارا روڈ سے8 سالہ لائبہ کو زیادتی کا نشانہ بنایا گیا اور قتل کردیا گیا ۔ 13 نومبر 2017 کو کوٹ اعظم خان میں7 سالہ کائنات کو ہوس کا نشانہ بنایا گیا۔09 جنوری 2018 کو 5 روز قبل اغواءہونے والی 7 سالہ بچی زینب کی زیادتی کے بعد مسخ شدہ لاش برآمد ہوئ۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق بچی کو متعدد بار جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد گلا دبا کر ہلاک کیا گیا۔یہ تو ہیں انفرادی واقعات جب کہ جولائی۔اگست 2015 میں حسین خان والا میں لڑکوں سے زیادتی کی ویڈیوز کا اسکینڈل منظر عام پر آیا جس میں 100 کے قریب ویڈیو منظر عام پر آئیں جب کہ واقعہ میں ملوث ملزمان کے خلاف50 سے زائد مقدمات بھی درج ہوئے۔ مرکزی ملزم حسیم عامر اور اس کے بھائی علیم آصف، نسیم شہزاد سمیت درجنوں ملزمان کو گرفتار کیا گیا، ملزمان کے خلاف دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمات بھی درج ہوئے تاہم اس کا بھی کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔ضرورت اس امر کی ہے کہ زینب کیس میں قاتل کو عبرت کا نشان بناکر مستقبل کے مزید سانحات کا راستہ روکا جائے۔