بچوں کوزینب کے ساتھ ہونے والی بربریت سے کیسے بچایا جائے

کراچی (بولونیوز)بچوں سے زیادتی اور قتل کے واقعات نے دل دہلا دیے ، بچوں کو قصور کی زینب کے ساتھ پیش آنے والی بربریت سے کیسے بچایا جائے، ماہرین نفسیات نے مختلف تجاویز دیتے ہوئے کہا کہ بچوں کو اس حوالے سے آگہی دینی چاہیے۔تفصیلات کے مطابق بچپن زندگی کاخوبصورت ترین عرصہ ہوتاہے تاہم بعض بچوں یا بچیوں کے ساتھ جنسی زیادتی جیسے واقعات کے منفی اثرات عمر بھر انکا پیچھا نہیں چھورتے۔واضح رہے قصور واقعے نے والدین کی نیندیں اڑا دیں ہیں، بچوں سے جنسی زیادتی کے پےدرپے واقعات نے والدین کو فکرمند بنا دیا کہ وہ اپنے بچوں کوکیسے بچا سکتے ہیں-ایک نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ والدین پر بھاری ذمے داری عائد ہوتی ہے، بچوں کو دوست بنائیں ، ان کی خاموشی توڑیں،ان میں اعتماد پیدا کریں۔خیال رہے کہ والدین اس معاملے کی اہمیت کو سمجھیں اور بچوں کیساتھ اس موضوع پر بات کریں اور انہیں آگاہی دیں، بچوں کو انکی عمرکے مطابق انہیں زیر نگرانی رکھیں۔اجنبی لوگوں کیساتھ انہیں نہ بھیجیں اورانہیں اپنی حفاظت کرنے کے بارے میں بتائیں،بچوں کو سکھائیں کہ کوئی غیرضروری طورپرپیار کرے یا سر کے علاوہ دیگر اعضا کو چھونے کی کوشش کرے تو اسکی بات ماننےسےسختی سےانکار کریں اور والدین کوفوری بتائیں۔واضح رہے کہ بچے کا بتائیں آئسکریم یا کوئی اور کھانے کی چیز یا کھلونا کسی اجنبی سے نہ لے، کسی بھی قسم کے لالچ میں اجنبی کے ساتھ جانے سے صاف انکارکردے۔اسکولوں میں اساتذہ بچوں کے مسائل پر نظر رکھیں،کہیں کوئی وین والا، مالی ،چوکیدار، پی ٹی ماسڑ بچوں کوتنگ تو نہیں کررہا۔بچے جنسی زیادتی کا شکار گھرمیں بھی ہوسکتےہیں، انہیں منع کریں کہ وہ کسی ملازم یا رشتہ دارکے کمرے میں اکیلے نہ جائیں۔والدین بچوں کو ٹیوشن کے وقت ایسے کمرے میں اساتذہ کیساتھ بٹھائیں جہاں سے ان پر نظر رکھ سکیں، ساتھ ہی بچوں کو اکیلا گھرسے نہ نکلنے دیں، کھیل کامیدان ہو یاٹیوشن سینٹرخود ہی لیکرآئیں اورچھوڑنےبھی خود جائیں۔فیس بک اور سوشل میڈیا سے اٹھنے والے سوالوں کے تسلی بخش جواب دیں، انٹرنیٹ پر غیراخلاقی ویب سائٹس تک بچوں کی رسائی روکنے کے لیے مناسب اقدام کریں۔