اے ٹی آر طیارے دیگرممالک میں‌ متروک ہوچکے، پاکستان میں اڑان بھرنے کی وجہ؟

کراچی (ایچ آراین ڈبلیو) حویلیاں کے مقام پر جہاں پی آئی اے کے جس بدقسمت طیارے کا حادثہ ہوا ہے، وہ اے ٹی آر کہلاتا ہے- جدید دنیا میں یہ طیارے بیشتر ممالک متروک قرار دے چکے ہیں، لیکن پاکستان میں یہ اب اڑان بھرتے نظر آتے ہیں- پاکستان میں ان طیاروں کو چلانے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ یہ چترال اور گلگت جیسے منی ائرپورٹ پر چلائے جاتے ہیں، جن کا رن وے کافی چھوٹا ہے اوراس طیارہ کو بھی لینڈنگ کرتے وقت زیادہ جگہ درکار نہیں ہوتی ہے- اے ٹی آر طیارے سیفٹی کے حوالے سے غیر معیاری ہیں،تائیوان اے ٹی آر طیاروں کے استعمال پر پابندی لگا چکا ہے، خریداری کے وقت اےٹ اے ٹی آرطیاروں کی افادیت پربھی سوال اٹھائے گئے تھے،ایک اے ٹی آرطیارہ لاہورایئرپورٹ کے رن وے پر پھسل کرناکارہ ہوچکاہے۔
ایک نجی ٹی وی کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ اے ٹی آر طیارے سیفٹی کے حوالے سے غیر معیاری ہیں،پی کے661پندرہ ہزار فٹ کی بلندی پر پرواز کررہا تھا ،3بج کر 40منٹ پر اڑان بھری،چترال سے اسلام آباد کا سفر ایک گھنٹہ 10منٹ کا سفر طے کرنا تھا جس میں سے 25منٹ کا سفر باقی تھا،50منٹ کا سفر طے کرچکا تھا۔
اے ٹی آر طیارے میں 48مسافروں کے بیٹھنے کی گنجائش ہوتی ہے،تائیوان اے ٹی آر طیاروں کے استعمال پر پابندی لگا چکا ہے،بدقسمت طیارہ پی آئی اے کے بیڑے میں 14مئی 2007 کوشامل کیاگیا تھا۔
ذرائع کا کہنا ہے اےٹی آر500-42 کی زیادہ سےزیادہ رفتار 563 کلومیٹرفی گھنٹہ ہوتی ہے، اے ٹی آر طیارے 48 مسافروں کے بیٹھنے کی گنجائش ہوتی ہے۔
پہلے بھی 2 اے ٹی آرطیارے مختلف حادثات کی وجہ سے ناکارہ ہوچکے ہیں،پی آئی اے کے پاس 3 اے ٹی آر 42 اور 5 اے ٹی آر 72 طیارے ہیں۔