پی آئی اے کے تباہ شدہ طیارہ میں ابھی تک آگ لگی ہے،جنید جمشید سمیت 47 افراد جاں بحق

ایبٹ آباد (ایچ آراین ڈبلیو) حویلیاں کے قریب واقع ایک گاؤں باٹولوی میں پی آئی اے کا مسافرطیارہ پی کے 661 گرکرتباہ ہوگیا۔ طیارہ چترال سے اسلام آباد کی طرف آ رہا تھا- ڈی آئی جی حویلیاں اور ترجمان پی آئی اے نے حادثے کی تصدیق کردی ہے۔ ڈی آئی جی ہزارہ کے مطابق طیارے میں آگ لگی ہوئی ہےاورشدید دھواں اُٹھ رہا ہے ۔
ذرائع کے مطابق طیارہ 2 بجے پشاور سے چترال پہنچا تھا جس کے بعد چترال سے اسلام آباد جارہاتھا جسے چار بجکر چالیس منٹ پر لینڈ کرنا تھا،تاہم سیکریٹری ایوی ایشن نے بتایا ہے کہ طیارے کا4:20پر کنٹرول ٹاورسےرابطہ منقطع ہوا۔
تفصیلات کے مطابق چترال سے اسلام آباد آنے والے پی کے 661 کو کیپٹن صالح یار جنجوعہ اور کو پائلٹ احمد جنجوعہ آپریٹ کر رہے تھے جبکہ ایک ٹرینی پائلٹ بھی سوار تھے۔ سول ایوی ایشن ذرائع کا کہنا ہے کہ اس کے ساتھ آخری رابطہ حویلیاں کے قریب ہوا جس دوران پائلٹ کی جانب سے”مے ڈے“ کال دی گئی اور پیغام بھیجا گیا کہ طیارے کے نجن میں خرابی پیدا ہوئی ہے۔ ذرائع کے مطابق کنٹرول ٹاور کو پائلٹ کا پیغام ملنے کے کچھ ہی دیر بعد طیارے سے رابطہ منقطع ہو گیا اور ریڈار سے بھی غائب ہو گیا۔
واضح رہے کہ ابتدائی طور پر طیارے کے لاپتہ ہونے کی اطلاعات موصول ہوئیں تاہم اس کے کچھ ہی دیر بعد حویلیاں میں طیارے کے گرنے کی اطلاعات بھی موصول ہونے لگیں۔ ماہرین کے مطابق کسی بھی طیارے کے پائلٹ کی جانب سے ”مے ڈے“ کال دینے کا مطلب ہوتا ہے کہ طیارہ انتہائی سنگین صورتحال سے دوچار ہے۔
بدقسمت طیارہ میں عملہ سمیت 47 افراد سوار تھے اس میں معروف نعت خواں جنید جمشید اور ان کی اہلیہ بھی شامل تھیں- جنید جمشید کی طیارہ میں موجودگی کے بعد تمام پاکستانیوں کی توجہ ٹی وی چینلز پر مرکوز ہو گئی مختلف چینلز جنید جمشید کے بارے میں قیاس آرائیاں کر رہے ہیں کہ اس میں اکیلے تھے یا ان کی اہلیہ بھی سوار تھیں، لیکن باخبر ذرائع نے بتایا کہ جنید جمشید کے ساتھ ان کی اہلیہ بھی سوار تھیں- چترال میں موجود جنید جمشید کے میزبان محمد ایوب نے بتایا کہ جنید جمشید دعوت تبلیغ کے سلسلے میں مسجد میں مقیم تھے اور ان کی اہلیہ محمد ایوب کے گھر رہائش پذیر تھیں-ذرائع کے مطابق طیارہ میں سوار تمام افراد جاں بحق ہو گئے